نا منظور نا منظور

نامنظور   نامنظور

پاکستان کا یہ المیہ ہے کہ آئے دن کسی نا کسی مسئلے میں گھرا نظر آتا ہے۔ اس مسئلے میں اسے باہر سے جھونکا جاتا ہے یا خود اہل چمن بربادی چمن کے خواہاں ہوتے ہیں اس کا فیلصلہ آج تک نہیں کیا جا سکا۔ بہرحال آزاد تجزیے جتنے بھی ان موضوعات پر کیے گئے ہیں اس میں سب اہل وطن کے ہاتھ مجرمانہ حد تک خون ِ وطن سے رنگے ملے ہیں۔مختلف ادوار میں وار مختلف انداز میں کیے گئے یا کروائے جاتے رہے۔مہرے بدلے چالیں بدلیں مگر ایک چیز بدلنے میں نہیں آئی وہ ہے پاکستانی عوال کا رد عمل۔ پاکستانی عوام کا یہ وطیرہ ہے کہ کوئی بھی ڈُگڈُگی لیکر نکلے اس کے پیچھے نکل کھڑے ہوتے ہیں۔ذیادہ دو ر جانے کی ضرورت ہی نہیں۔ چند سالوں میں سامنے آنے والے مسائل اور ان کے بعد عوام کا رد عمل دیکھ لیتے ہیں۔پاکستانی حکومت ہمیشہ کی طرح کاسۂ بے نوا لیے بھیک مانگنے چل پڑتی ہے۔ خیرات کیری لوگر بل کی صورت میں ملتی ہے۔(یہ معاہدہ پاکستان کے لیے سودمند تھا یا نہیں تھا یہ ایک الگ بحث ہے جس کو چھیڑنے کی اس موضوع میں قطعاََ کوئی ضرورت نہیں)۔ ساتھ ہی حکومت مخالف لوگ سڑکوں پر آنے کا فیصلہ کر لیتے ہیں۔ ملک میں جگہ جگہ احتجاج اور عوامی طاقت کا مظاہرہ کیا جانے لگتا ہے۔ بے معنی اور بے فیض سیاسی جلسوں کو بھی ایک گرماگرم موضوع مل جاتاہے۔عوام بھی چلا چلا کر نعرے لگاتی ہے .
”کیری لوگر بل نا منظور نا منظور“

ایک سیاسی جماعت کے جلسے میں جانے کا اتفاق ہوا۔ایک ادھیڑ عمر شخص فلک شگاف نعروں سے ماحول گرما رہا تھا۔ میں نے اس سے مدعا دریافت کیا تو بولا کہ”کچھ بھی ہوجائے کیری لوگر بل کسی قیمت پر منظور نہیں ہوگا“ میں نے استبسار کیا کہ یہ کیری لوگر بل ہے کیا؟ اور کیوں نامنظور ہے؟ ان دونوں سوالوں کا جواب اس کے پاس مجھے گھورنے کے سوا کچھ اورنہیں تھا۔میرے اسرار پر اس نے اس موضوع پر زبان کھولی فرمانے لگے ”جو بھی ہو جب ہمارے لیڈر نے اعلان کر دیا کہ نامنظور تو نامنظور“ اس طرح سے اس جلسے میں موجود قریب آٹھ لوگوں سے میرا یہی سوال تھا مگر ان میں سے کوئی بھی اس سوال کا جواب نا دے سکا کہ کیری لوگر بل کیا ہے؟ اس کی کونسی شق ناقابل قبول ہے؟ کوئی کچھ بتانے کو تیار ہی نہیں تھا اور ہو بھی کیسے؟وہ کونسا اس موضوع کو جانتا یا سمجھتا تھا۔ اسے بس ایک جلسے کی دعوت ملی۔ جو یا تو اس کی سیاسی وابستگی کی کسی پارٹی سے تھی یا پھر صرف تفریح کے لیے وہ یہاں آگیا۔اس موضوع پر پھر بھی کہا جاسکتا ہے کہ عوام کا موقف قدرے سمجھ میں آتا ہے کہ ”اتنی دقیق شے کوئی کیسے سمجھ سکے“ مگر کیوں ناتھوڑا آگے بڑھیں۔

ملک میں ہونے والے الیکشن کے نتیجے میں ایک سیاسی مخالفت زور پکڑتی ہے اور ذاتیات کی سطح پر آجاتی ہے۔(اس کے محرکات کیا تھے یا ثمرات کیا تھے یہ ایک بحث طلب موضوع ہے مگر یہاں اس کے ردعمل کے طور پر سامنے آنے والا عوام کابرتاؤ دیکھنا مقصود ہے اس لیے اس کی سیاسی مخالفت کی صحت پر بحث نہیں کی جارہی)۔ملک گیراحتجاج کا سلسلہ شروع ہوتاہے۔جگہ جگہ سڑکیں بند۔قدم قدم پر ریلیاں۔صبح سے شام تک ٹی وی موبائل جگہ جگہ نعرے ہی نعرے۔جلسے میں جانے کا اتفاق ہوگیا۔وہی عمل دہرایا۔ آنے والے چند لوگوں سے وہی سادہ سوال دہرائے گئے۔ہوا کیا ہے؟ آپ یہاں کیوں آئے ہیں؟آپ لوگ کیا چاہتے ہیں؟اکثر و بیشتر تفریح کے لیے یا کسی سیاسی وابستگی کو ثابت کرنے کے لیے آئے ہوئے تھے۔معاملے کا نا تو اکثرلوگوں کو علم تھا،نا ہی وہ اس میں کسی قسم کی کوئی دلچسپی رکھتے تھے۔وہ صرف دھارے کے ساتھ بہنا چاہتے تھے اور اسی میں مطمئین تھے۔بس گلا پھاڑ پھاڑ کر نعرے لگا رہے تھے ”نا منظور نا منظور“۔چونکہ یہ بھی ایک سیاسی عمل تھا اس لیے اس میں بھی یہ بہانہ قبول کر لیتے ہیں کہ اس ملک کی سادہ لوح عوام کو سیاسی پیچ و خم سمجھنے کی استطاط نہیں ہے۔آگے چلتے ہیں ملک میں ایک دوسرے ملک کے خلاف احتجاج جاری تھا۔کچھ دینی درسگاہوں سے منسلک لوگ اس کی قیادت کر رہے تھے۔نعرہ ایک ہی تھا ”گستاخ رسول کی ایک سزا سر تن سے جدا“ بحیثیت مسلمان اس نعرے سے اختلاف ممکن نہیں مگر میں نے سوال کیا ”ہوا کیاہے؟“ ’’یہ احتجاج کیسا ہے؟“ ”یہ احتجاج کس کے خلاف ہے؟ اور کس کے سامنے کیا جارہا ہے؟ جس میں گلی محلہ اپنہ ہی بند کیا جارہا ہے“اکثر لوگ جانتے ہی نہیں تھے کہ ہوا کیا ہے۔ ان کے اس احتجاج کا مقصد کیا ہے۔اس احتجاج کا فائدہ کیا ہے؟ صرف یہ جانتے تھے کہ گلی محلے میں اعلان ہوا ہے کہ آگ احتجاج ہے جو وجہ بیان کی گئی اس سے مذہبی سطح پراتفاق تھا سو آگئے۔ جاننے کی کوشش ہی نہیں کی گئی۔اس کو بھی چھوڑ دیجیے یہ کہاجاسکتا ہے مسلہ چونکہ مذہبی تھا اس لیے عوام کی عقیدت نے اسے مجبور کیا کہ وہ بنا کسی تحقیق اورآگاہی اس کے پیچھے چل پڑیں۔اس سے بھی آگے چلتے ہیں موجودہ مسلے کو ہی لے لیتے ہیں۔ملک گیر سطح پر گستاخانہ مواد پر احتجاج کیا گیا۔اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ کسی بھی مذہب یا مسلک کے بانیان اور پیشواؤں کی گستاخی کی کسی صورت اجازت نہیں ہونی چاہیے۔مذہبی سے ہٹ کر بھی عوامی وابستگی اور پیروکار رکھنے والوں کی تضحیک نا قابل قبول ہے۔مگر جب اس احتجاج نے ایک نیا رخ اختیار کیا تو وہ انتہائی حیران کن تھا۔تما م سوشل میڈیا کے ذرائع، اخبار اور ٹی وی الغرض ہر سطح پر سوشل میڈیا بند کر دینے کی ایک تحریک چلتی ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ زور پکڑ لیتی ہے۔جگہ جگہ احتجاج جگہ جگہ روڈ بلاک جگہ جگہ نعرے بازی۔فیس بک سے لیکر ہر فورم پر جہاں جس سے بات کرو آدھے سے ذیادہ لوگ اسی بحث میں الجھے ملتے ہیں کہ سوشل میڈیا بند کیاجائے۔سادہ لوح عوام بھی اس کا حصہ بن چکی ہے۔ذرا کسی سے پوچھیے کہ جناب آپ کی بات درست ہے یہ سب بند کر دیتے ہیں مگر ہوا کیا ہے؟اکثر لوگ سنی سنائی داستانیں سنا دیں گے۔پوچھ لیجیے کہ ایسا کرنے سے کیا ہوگا؟اکثرلوگوں کے وہم و گمان میں بھی اس کا جواب نہیں ہوگا۔کسی ایسے احتجاج میں جائیے ان سے پوچھیے۔اس کافائدہ کیا ہوگا۔کیا سوشل میڈیا بند کردینے سے اس پر سے وہ مواد ہٹ جائے گا جو ملک سے باپر بیٹھے لوگ بھی لگا رہے ہوں گے؟کیا سوشل میڈیا بند کرنے سے گستاخی ختم ہوجائے گی؟کیا آنکھیں بند کر لینے سے ہم یہ کبوتر یہ سمجھ لے کہ بلی چلی جائے گی؟سادہ لوح عوام میں جاتے ہوئے اس بات کو ذہن میں رکھیے گا کہ وہ آپ پر گستاخی کا فتوہ داغ دے گی اور فیس بک جیسے فورم پر بات کرتے ہوئے ”لبرل“ کا ٹیگ لگونے کے لیے تیار ہوجایئے۔ان سے صرف اتنا پوچھیے کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ کسی سوچی سمجھی سازش کے تحت ایسا مواد ڈالا گیا ہو اور پھر ہمیشہ کی طرح آپ کے کچھ لوگوں کو خریدکر ااحتجا ج کروایا جا رہا ہو تاکہ آپ ٹیکنالوجی سے دور کر دیے جائیں۔اور جدید دنیا میں آپ کا تھوڑا بہت وجود جو باقی ہے اسے خطرے میں ڈالا جا رہا ہو۔اس ضمن میں اسلامی دنیا سے ایک مثال ضرور دیکھیے گا کہ جب ”پرنٹنگ پریس“ حرام قرار دلوا کر آپ کے ہاتھ پاؤں خود آپ کے اپنے ہاتھوں سے کٹوا دیے گئے۔لیکن احتجاجوں کے معاملے میں ہم کسی سوال کا جواب دینے کے لیے تیار ہیں نا ہی ہم کوئی بھی بات حقیقت کی صورت میں جانتے ہیں۔ بس احتجاج ہورہا تھا ہم بھی آگئے۔ لوگ کھڑے تھے ہم بھی کھڑتے ہوگئے۔سب لڑ رہے تھے ہم بھی مارنے لگے۔بنا سوچے سمجھے نعرے لگانے اور اودھم مچانے کی ہمیں عادت پڑ چکی ہے اس لیے نعرہ لگائیے
”نا منظور نامنظور“ ”یہ بھی نامنظور وہ بھی نامنظور نامنظور "

Comments

Popular Posts